Monday, September 20, 2021

امریکی بمباری میں افغان طالبان کی فتوحات اور بھارتی ایجنٹوں کا فرار جاری ہے

طالبان کی طوفانی یلغار اور فتوحات میں افغان فوجی ، فضائیہ کے پائیلٹ اور بھارتی را کے دہشت گرد ایجنٹس طالبان کے خوف سے افغانستان چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں

افغانستان میں امریکی بمباری کی تیزی کے باوجود افغان طالبان کی پیش قدمی اور بھارت کی ایجنسیوں کے ایجنٹوں کا فرار جاری ہے۔ مزارِ شریف اور پلِ خمری کے نواح میں شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ اور بھارت نے مزار شریف میں پھنسے اپنے اہلکاروں کو نکالنے کیلیے خصوصی طیارے کا انتظام کیا ہے۔

پاک افغان سرحدی شہر چمن بارڈر پر باب دوستی مسافروں کی آمدورفت اور تجارت کیلئے کھول دیا گیا ہے۔ افغان طالبان کی جانب سے اس سرحد سے ہونے والی تجارت پر اب ٹیکس بھی وصول کیا جا رہا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ افغانستان کا دفاع کرنا افغان فوج کی ذمہ داری ہے۔ صدر جوبائیڈن کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب افغانستان کیلئے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد منگل کو طالبان سے ملاقات کیلئے قطر پہنچ رہے ہیں

صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ کا افغانستان میں فوجی مشن 31 اگست کو مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔ افغان عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکیوں کی ایک اور نسل کو 20 سال کی جنگ میں دھکیلنا نہیں چاہتے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں امریکی بمباری کے بعد طالبان کی پیش قدمی میں مذید تیزی دیکھی گئی ہے۔ طالبان نے شدید بمباری کے باوجود پانچ دن میں چھ اہم شہروں پر قبضہ کر لیا ہے۔ طالبان کے قبضے میں آنے والا آخری اہم شہر صوبہ سمنگان کا دارالحکومت ایبک ہے۔ اس سے قبل وہ نمروز کے دارالحکومت زرنج، سرِ پُل، تخار صوبے کے شہر تالقان، قندوز اور ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ پر قبضہ کر چکے ہیں۔

افغانستان میں اہم شہروں پر طالبان قبضہ کے بعد تمام بھارتی منصوبے بند ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ بھارتی سفارت خانے کے مطابق منگل کی شام ایک خصوصی طیارہ دہلی کیلیے روانہ ہو رہا ہے۔ مزار شریف اور آس پاس میں مقیم بھارتی اہلکاروں سے کہا گیا ہے کہ وہ فوری دہلی روانہ ہو جائیں۔

واضح رہے کہ کانگریس نے بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کو  خط لکھ کر افغانستان میں پھنسے بھارتی شہریوں کو واپس لانے کا مطالبہ کیا تھا۔ گزشتہ ماہ بھی بھارت نے قندھار سے تقریباً پچاس سفارتکاروں سمیت دیگر کئی اہلکاروں کو واپس بلا لیا تھا لیکن سرکاری اعداد و شمار کے مطابق افغانستان میں ابھی بھی بھارتی ایجنسیوں کے پندرہ سو سے زائد اہلکار موجود ہیں۔

حیران کن امر ہے کہ ایک طرف امریکہ افغانستان سے انخلاء بھی کر رہا ہے جبکہ دوسری طرف امریکہ ہی افغانستان میں اپنی بغل بچہ افغان افواج کیلیے اے سی 130 گن شپ ہیلی کاپٹر اور ڈرون طیاروں کے علاوہ بی 52 بمبار طیارے اور ایف 18 جنگی طیارے بھی بھیج رہا ہے۔ جبکہ افغانستان کی سرکاری افواج کی صورت حال یہ ہے کہ افغان فضائیہ کے پائیلٹ طالبان کے خوف سے افغانستان چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔


امریکہ اور بھارت کے مذموم گٹھ جوڑ کے بارے میرا یہ کالم بھی پڑھیں

امریکہ اور نیٹو کی افغانستان سے واپسی اور افغان بھارت گٹھ جوڑ کی دہشت گردی

اہم خبریں

تازہ ترین خبریں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here