Saturday, April 17, 2021

چین کی پیپلز لبریشن آرمی کی لداخ کے اہم مقامات پر جنگی مشقیں جاری ہیں

جن علاقوں میں اس سرگرمی کو ریکارڈ کیا گیا ہے یہ لداخ میں انڈیا کے دولت بیگ اولڈی فضائی اڈے کے ایرسٹریپ سے 36 کلومیٹر مشرق میں بلند ترین فضائی پٹی پر واقع ہیں

چین کی پیپلز لبریشن آرمی لداخ میں ایل اے سی کے ساتھ ساتھ دیپسانگ میدانی علاقوں میں اپنے فوجیوں کی تربیت اور جنگی مشقوں میں مصروف ہے۔ چین نے دیپسانگ میں اپنے فوجیوں کی تربیت حاصل کرنے کی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔ چین نے ویڈیو جاری کرنے کے بعد اوپن سورس انٹیلیجنس ٹویٹر ہینڈل  ڈیٹریسفا کے ذریعہ شیٹلائٹ تصاویر بھی شیئر کی ہیں۔

اس میں کہا گیا ہے، جن علاقوں میں اس سرگرمی کو ریکارڈ کیا گیا ہے یہ لداخ میں انڈیا کے دولت بیگ اولڈی فضائی اڈے کے ایرسٹریپ سے 36 کلومیٹر مشرق میں بلند ترین فضائی پٹی پر واقع ہیں

ڈیپسانگ میدانی علاقوں کی اہمیت

مئی 2020 سے ہندوستان اور چین ایک بارڈر اسٹینڈ آف میں متحرک ہیں۔ دپسانگ میدانی علاقہ دونوں ممالک کے مابین ایک اہم تنازعہ رہا ہے۔ موجودہ کشیدگی سے قبل 2013 اور 2015 میں بھی ڈیپسانگ کے ان میدانی علاقوں پر تنازعہ رہا تھا

اس 972 مربع کلومیٹر کے رقبے کی اہمیت 16،400 فٹ سے زیادہ اس کے اسٹریٹجک مقام میں ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کی صورت میں ڈیپسانگ کا علاقہ میدانی فوج کو دفاعی فائدہ فراہم کریں گے۔

تازہ ترین فوجی تربیتی سرگرمیاں واضح طور پر اس بات کی نشاندہی ہوتی ہیں کہ چین منتقلی پر فوری اختیار کے طور پر نہیں دیکھ رہا ہے۔ تاہم ذرائع نے چین کے اہم اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کو بتایا تھا کہ چین نے بھارت کے ساتھ متنازعہ سرحد سے دس ہزار فوجی واپس بلا لے لئے ہیں۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ صورت حال اس وقت ہوئی جب چین نے یہ اندازہ لگایا کہ اس سخت سردی میں ہمالیائی خطے میں تنازعہ کا معمولی امکان موجود ہے۔ جبکہ اس وقت دونوں فریقوں کو بخوبی علم ہے کہ اس طرح کے شدید موسمی حالات میں لڑنا ناممکن ہے

ہندوستان کی فوجی دستوں کے انخلا کے دعوؤں کی تردید

ہندوستانی آرمی چیف جنرل منوج مکنڈ ناراوا نے نے دونوں طرف سے فوجیوں کی کمی کے بارے میں دعوؤں کی تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے فوجی ہر سال روایتی تربیت کیلئے ان علاقوں میں آتے ہیں۔ اور تربیت ختم ہونے کے بعد واپس نکل جاتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس حساس ایریا کے جنگی زونز اور پوزیشنوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ چین نے وسطی اور مشرقی علاقوں میں بنیادی ڈھانچہ تیار کیا ہے۔

گزشتہ جون میں پرتشدد تصادم میں 20 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سے دونوں فریق سفارتی اور فوجی سطح پر بات چیت کے متعدد ادوار میں مصروف ہیں ۔ تاہم ابھی تک ان مذاکرات کا کوئی قابل ذکر نتیجہ برامد نہیں ہوا۔

چین بھارت تنازعہ کے بارے یہ خبر بھی پڑھیں

چین نے بھارتی دریاؤں پر کنٹرول کا لیکوئڈ بم چلانے کی دھمکی دے دی

LATEST NEWS

CHINESE NEWS

OUR DEFENCE NEWS SITE

spot_img

INDIAN NEWS