Saturday, April 17, 2021

متحدہ عرب امارات صدر ٹرمپ کی مدت ختم ہونے سے پہلے ایف ۔ 35 طیارے حاصل کرنا چاہتا ہے

 امریکہ مشرق وسطی کے خطے میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور کیو ایم ای کو برقرار رکھنے کے لئے اسلحہ فروخت کرتے ہوئے اسرائیلی مفادات سامنے رکھنے کی پالیسی پر واضح طور پر قائم ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا عہدہ چھوڑنے میں صرف چند دن باقی ہیں ، جبکہ نئے منتخب کردہ صدر جوبائیڈن اقتدار سنبھال رہے ہیں۔ امریکہ کے اسسٹنٹ سکریٹری برائے مملکت برائے سیاسی و عسکری امور آر کلارک کوپر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ 20 جنوری سے قبل جنگی سامان کے معاہدوں کے حوالے سے بہت سارے اہم کام ابھی مکمل کرنا باقی ہیں ۔

عالمی پریس نے آر کلارک کوپر کے حوالے سے لکھا ہے کہ امریکی ایوان میں کوئی ایک غیر مکمل معاہدہ نہیں بلکہ کئی ایک ہیں ۔ لہذا ادھورے کام مختلف ٹائم لائنوں پر مکمل  کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ پراسسنگ کیلئے معاہدوں پر مختلف لوگوں کے دستخط ، مختلف پروڈکشن کی میجمنٹس کے نام آرڈرز ترسیل ہونا ہوتے ہیں ۔ اور یہ ایک چھوٹا سا چند منٹوں کا کام نہیں ہے۔

ابھی کافی ادھورے کام اپنے اختتامی مرحلوں میں ہیں۔ اور تمام پراڈکٹس اور دفاعی ہتھیاروں کی فروخت کو باہمی گفت و شنید کے بعد اچھی طرح سے ترتیب دیا گیا ہے۔ اور ہمیں امید ہے کہ معاہدے بر وقت اور خوش اسلوبی سے تکمیل کو پہنچیں گے۔

امریکی دفاعی سیکیورٹی تعاون ایجنسی نے نومبر میں اعلان کیا تھا کہ محکمہ دفاع نے 50 جی ایف -35 اے جوائنٹ اسٹرائیک فائٹر ، 18 ایم کیو – 9 بی ڈرون ، اور اے جی ایم 154 ای جوائنٹ اسٹینڈ آف ہتھیار سمیت دیگر اسلحے کی فروخت کی  منظوری دے دی ہے۔  توسیع شدہ رینج کروز میزائل ، جن کی مالیت 23.4 بلین ڈالر ہے۔

اس معاہدے کی منظوری امریکی کانگریس نے دی ہے ، لیکن متحدہ عرب امارات کو ایف 35 جیٹ طیاروں کی فروخت اس وجہ سے متنازعہ بن رہی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ایک دیرینہ معاہدہ ہے جس سے اس کو خطے میں فوجی برتری حاصل ہو سکے۔

ایشیا میں نئے دفاعی اتحادوں کے بارے یہ مضمون بھی پڑھیں

امریکہ اور بھارت کے گریٹر اتحاد کے مقابلے میں روس اور چین کا اتحاد مضبوط ہو رہا ہے

aixia miN

 اس سے قبل واشنگٹن نے مشرق وسطی کے خطے میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور کیو ایم ای کو برقرار رکھنے کے لئے اسلحہ فروخت کرتے ہوئے اسرائیلی مفادات سامنے رکھنے کی پالیسی پر واضح طور پر تاکید کی ہے۔

علاوہ ازیں  صدر جوبائیڈن کے خارجہ پالیسی کے مشیر ٹونی بلیکن کے ٹائمز آف اسرائیل کو دئے گئے ایک انٹریو میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کو ایف 35 بیچنے کے لئے ٹرمپ کا عزم اسرائیل اور امارات کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کا “کوئڈ پرو کو” ثابت ہوسکتا ہے۔

ہتھیاروں کے معاہدوں میں تنازعہ کے بعد اگر امریکہ اس کو ایف -35 اور ایم کیو 9 رائپر ڈرون فراہم کرنے سے انکار کرتا ہے تو متحدہ عرب امارات ہتھیاروں کی خریداری کیلئے دوسرے ذرائع کی طرف رجوع کرے گا۔

امریکہ میں متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف الاطبیبہ نے ایک بیان میں کہا ، ہمارے پاس بہترین امریکی سازوسامان ہو گا  یا ہم اپنی ضرورت کیلئے امریکہ سے کم صلاحیت کا حامل جنگی ساز و سامان دوسرے ممالک اور ذرائع سے ڈھونڈیں گے۔

ترکی کے سٹیلتھ فائٹر ٹی ایف ۔ ایکس کے بارے یہ مضمون بھی پڑھیں

امریکی ایف ۔ 35 کے مقابلے میں ترکی کا ففتھ جنریشن سٹیلتھ فائٹر ٹی ایف ۔ ایکس

LATEST NEWS

CHINESE NEWS

OUR DEFENCE NEWS SITE

spot_img

INDIAN NEWS