Saturday, April 17, 2021

سوشل میڈیا پر محمد علی سدپارہ کی زندہ واپسی کی فیک خبریں پھیلانے والے اخلاقی مجرم ہیں

کے ٹو کے شدید برفابی موسمی حالات میں تین سے زیادہ انسانی زندگی کا بچنا ایک معجزاتی امر ہے۔ جبکہ 10 دن گزر جانے کے بعد سدپارہ اور ان کے ساتھیوں کے زندہ ہونے کا امکان ختم ہو چکا ہے

کچھ غیر ذمہ دار اور اخلاق سے عاری لوگ سوشل میڈیا پر پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ اور ان کے غیر ملکی ساتھیوں کی زندہ واپسی کے بارے چھوٹی خبروں سے لائیک سکورنگ کی مذموم کوشوں میں مصروف ہیں۔ جبکہ یہ گھناؤنی حرکت ہر اعتبار سے انتہائی غیر اخلاقی ہے۔

ذمہ دار ذرائع نے کے ٹو سر کرنے کی مہم کے دوران لاپتہ ہو جانے والے کوہ پیما محمد علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں، جوان پابلو موہر ، اور جان سنوری سگورجنسن کی بحفاظت واپسی کی افواہوں کی تردید کی ہے۔

ڈپٹی کمشنر ضلع شیگار عظیم اللہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر علی سدپارہ کے زندہ سلامت واپس آنے کے بارے میں من گھڑت اور گمراہ کن خبریں پھیلانے سے باز رہیں۔ ان کے مطابق ایسی جھوٹی خبروں سے لا پتہ کوہ پیماؤں کے اہل خانہ کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ اور اس سے ملک و قوم کی بدنامی بھی ہوتی ہے


محمد علی سدپارہ کے بارے یہ خبر بھی پڑھیں

آج کے 2 ورچوئل اینڈ فزیکل بیس کیمپ کی جاری پریس ریلیز کے مطابق ، کے 2 پر کوہ پیمائی کی تاریخ میں تلاش اور بچاؤ آپریشن کی تمام تر کوششیں جاری ہیں۔ جن کی تفصیلات پریس کانفرنس میں شیئر کی جائیں گی۔

ترجمان نے عوام سے اپیل کی کہ لاپتہ کوہ پیماؤں کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کریں۔ جھوٹی خبریں پھیلانے کی بجائے قوم کے ہیرو کے بارے میں ان کے کارناموں کی  کہانیاں شیئر کریں تاکہ ان کو ہمیشہ یاد رکھا جائے۔

مصدقہ اطلاعات کے مطابق محمد علی سدپارہ اور ان کی ٹیم کو آخری بار 5 فروری کو کے 2 پر بوٹل نیک کے خطرناک ترین مقام کے قریب دیکھا گیا تھا۔ اس کے بعد سے ان کا سٹیٹس نامعلوم اور غیر واضح ہے۔ خیال رہے کہ کے ٹو کے شدید برفابی موسمی حالات میں تین سے زیادہ انسانی زندگی کا بچنا ایک معجزاتی امر ہے۔ جبکہ 10 دن گزر جانے کے بعد سدپارہ اور ان کے ساتھیوں کے زندہ ہونے کا امکان ختم ہو چکا ہے۔

محمد علی سدپارہ کے صاحبزادے نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ ان شدید موسمی حالات میں اتنے روز بعد  انسانی زندگیاں بچنے کے امکان ختم ہو چکے ہیں۔ اب صرف ان کی ڈیڈ باڈیز کی تلاش کا کام باقی ہے۔

۔


 پاکستان کے ایس ایس جی کمانڈوز ک بارے یہ مضمون بھی پڑھیں

LATEST NEWS

CHINESE NEWS

OUR DEFENCE NEWS SITE

spot_img

INDIAN NEWS