Sunday, June 20, 2021

حریم شاہ کی بے باک ویڈیوز شئیرنگ کے پس پردہ مقاصد اور تلخ حقائق کیا ہیں؟

سوال یہ ہے کہ حریم شاہ جیسی ماڈلز کو ایوان اقتدار ، وزارتی دفاتر اور حکمرانوں تک رسائی کیسے حاصل ہے؟ ریاست مدینہ کے داعی خان صاحب بھی بنی گالہ محل میں حریم شاہ کو کندھے پر ہاتھ رکھے ساتھ جُڑ کر تصویر بنانے کے جرات مندانہ مواقع کیوں دیتے ہیں؟

سکینڈل کوئین حریم شاہ اپنی متنازعہ ویڈیوز اور ہیجان انگیز بیانات کی وجہ سے مشہور ہیں۔ ان کی ویڈیوز پاکستانی اشرافیہ اور سیاست میں حسن پرست شخصیات کی اصلیت دکھاتی ہیں۔ کبھی وہ وزراء کے دفاتر میں اور کبھی عمران خان صاحب کے کندھوں پر ہاتھ دھرے بے باکانہ تصاویر میں نظر آتی ہیں۔ حریم شاہ کا نیا شکار پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو ہیں۔ جن کیلئے وہ اپنی نئی ویڈیو میں محبت کے اظہار کیلئے رومانوی گیت کے ساتھ جلوہ افروز ہیں۔

سیاست دانوں اور معروف شخصیات کی متنازعہ ویڈیوز کی اشاعت سے طوفان اٹھانے والی حریم شاہ نے انسٹاگرام پر بلاول بھٹو سے محبت کے والہانہ اظہار کی جو ویڈیو شیئر کی ہے۔ بیباک انداز کی یہ وائرل ویڈیو خبروں اور تبصروں کا محور بنی ہوئی ہے ۔

حریم شاہ نے پاکستان کے  کوہ پیما علی محمد سدپارہ مرحوم کی یاد میں گائے ہوئے گیت ” تم چلے آؤ پہاڑوں کی قسم”  کے بیک گراؤنڈ میں بلاول بھٹو زرداری سے عاشقی کا اظہار کیا گیا ہے۔ انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ویڈیو میں حریم شاہ موبائل فون پر بلاول بھٹو زرداری کی تصویر گلے لگا لگا کر جس انداز میں شئیر کیا گیا ہے۔ وہ انتہائی عامیانہ ہونے کے ساتھ ساتھ بڑا معنی خیز بھی ہے

بلاول بھٹو اپنے لندن قیام کے دوران مغربی اور مشرقی دوشیزاؤں کے ساتھ رومانوی تصاویر اور معاشقوں کیلئے مغربی اخبارات سے سوشل میڈیا تک خبروں میں رہے ہیں۔ لیکن ویڈیو میں حریم شاہ کا یہ انداز اور رومانوی رقص دنیا بھر میں پاکستانی سیاست اور سیاست دانوں کی ساکھ کا جنازہ نکال رہا ہے۔ حریم شاہ کی خان صاحب کے ساتھ جڑے کندھے پر ہاتھ رکھے اپنائیت کے سٹائیل میں تصویر کوئی معمولی بات نہیں ، بڑے گہرے معانی رکھتی ہے۔

ویڈیو گرل دنانیر کے بارے یہ کالم بھی پڑھیں

کاش ویڈیو میجک پاوری گرل دنانیر مبین پاکستان کے غریب طبقات کے دکھوں کی آواز بن جائے

یاد رہے کہ حریم شاہ کی پہلی ویب سیریز “راز” کے ٹریلر میں حریم شاہ کی طرف سے ایک متنازعہ اور دکھاوے کے مذہبی کردار مفتی عبدالقوی کو تھپڑ مارنے اور کبیر نامی ایک دوسرے مولوی کے ساتھ اسکینڈل بھی دکھایا گیا تھا۔ جبکہ میرے مطابق حریم شاہ کی متنازعہ ویڈیوز کے معاملات پاکستانی سیاست ، اسلامی اقدار اور ” مولوی” کی ساکھ کو بدنام کرنے کی حکمت عملی ہے۔ جب کہ مفتی قوی جیسے اخلاق باختہ کردار خود بھی اس سازشی گیم کا حصہ ہیں۔

خیال رہے کہ انٹر نیٹ پر قابل اعتراض مواد اور سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی شئیرنگ روکنا ریاست اور پیمرا جیسے حکومتی اداروں کا فرض ہے۔

افسوس کہ آج ہمارے میڈیا چینلوں پر قومی مسائل پر اظہار خیال کیلئے دانشوروں کی نشستوں پر مزاحیہ اداکار اور بھانڈ بٹھا دیے گئے ہیں۔ رحیم شاہ جیسی شوبز ماڈلز کو سیاسی کرداروں اور مفتی قوی جیسی نام نہاد مذہبی شخصیات کی کردار کشی کی آڑ میں دراصل مذہبی اقدار اور علماکرام کی ساکھ کو نشانہ بنانے کی کھلی چھٹی دی جا رہی ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ حریم شاہ جیسی خواتین کو صرف مشہور شخصیات ہی نہیں ایوان اقتدار ، حکومتی دفاتر اور حکمرانوں تک رسائی کیون اور کیسے حاصل ہے؟

سوال یہ بھی ہے کہ ریاست مدینہ کے داعی خان صاحب بھی بنی گالہ محل میں حریم شاہ کو کندھے پر ہاتھ رکھے ساتھ جُڑ کر تصویر بنانے کے جرات مندانہ مواقع کیوں دیتے ہیں؟


Read this article about female career at Pakistan Army

Females can Join Pak Army as Captain through Lady Cadet Course (LLC)

LATEST NEWS

CHINESE NEWS

OUR DEFENCE NEWS SITE

spot_img

INDIAN NEWS