Monday, August 2, 2021

گوجرانوالہ کی ہاؤسنگ سکیموں کے فراڈ اور خونخوار قاتل مافیے

اوجلہ ڈویلپرز کی رائل پام ہاؤسنگ سوسائٹی کے متاثرین کے مظاہرے میں تین افراد کے وحشیانہ قتل کے خون آشام سانحہ کے بعد اب ماسٹر ٹائل انڈسٹری کے مالکان شیخ محمود احمد بھی سونا اگانے والی زمینیں برباد کر کے رہائشی تعمیراتی کاروبار کے کرپشن کھیل میں کود چکے ہیں

تحریک انصاف حکومت کیلئے سابقہ حکومتوں کے ادوار کے لینڈ مافیوں کے ہاتھوں عوام کی تباہی و بربادی جیسے سانحات کا برپا ہونا ایک کڑا امتحان بن رہا ہے۔ اس کی روک تھام کیلئے عمران خان کی حکومت کی طرف لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترامیم کا فیصلہ خوش آئیند ہے۔ یہ بروقت فیصلہ اس وقت سامنے ایا ہے کہ جب ماضی کی حکومتوں کی طرح اس دور میں بھی سونا اگانے والی زمینوں کی بربادی نے خون اگلنا شروع کر دیا ہے۔

 گزشتہ دو ہفتوں سے رائل پام ہاؤسنگ پراجیکٹ کے مالکان اوجلا ڈویلپرز کی مالیاتی جعلسازیوں کیخلاف گوجرانوالہ شہر کے نزدیک ترین نواحی علاقہ آٹاوہ کے زمینداروں کی طرف سے مختلف سرکاری دفاتر کے سامنے اور عوامی سطح پر احتجاجی مظاہرے جاری تھے۔ اس حوالے سے شہر بھر میں اور خصوصا تمام اہم سرکاری اتھارٹیز کے دفاتر کے سامنے متاثرین کے مطالبات کے بارے بینرز بھی آویزاں کیے گیے تھے۔ جبکہ زمینداروں کی طرف سے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے ازالہ کیلئے متعلقہ اعلیٰ حکام کی خدمت میں تحریری درخواستیں بھی دی گئیں تھی۔

لیکن افسوس کہ مسائل اور شکایات کا کوئی حل تو نہ ہو سکا۔  مگر شومئی قسمت کہ اعلی حکام کی طرف سے سائلین کی شکایات کے بروقت ازالے میں دیری کے باعث تین قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو گئیں۔

اوجلہ ڈویلپرز کی جعلسازی کے بعد مقامی سرکار کی بیڈ گورنس اور پولیس کی روایتی لاپرواہی اس سانحہ کی بڑی وجہ بنے ہیں۔ عینی شااہدین اور مصدقہ اطلاعات کے مطابق مورخہ بتاریخ 9 مارچ بروز منگل بوقت صبح 10 بجے کے قریب شہر کے پوش علاقہ کینال ویو کے مین گیٹ پر واقع اوجلا ڈویلپرز کے مرکزی ”دربار” کے سامنے رائل پام سٹی کے متاثرہ مظاہرین اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرتے ہوے پہنچ گئے ۔ مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حوالے سے مختلف بینرز وغیرہ اٹھا رکھے تھے۔

حقائق کو پیش نظر رکھیں تو اس احتجاج کو تصادم نہ کہنا بھی زیادتی ہو گی۔ اور پھر بدقسمتی سے ہوی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ متاثرین کے احتجاج کو بزور قوت روکنے والے اوجلہ ڈویلپر کی فرعونیت تصادم کی شکل اختیار کر نے ایک سانحہ کا سبب بن گئی۔ اس شہر کے تگڑے تعمیراتی گروپ اوجلا ڈویلپرز کے مالکان احمد وقاص اوجلا،حسن اوجلا ، عثمان اوجلہ کی ایما پر انکی خود ساختہ ریاست کے خون آشام گن مینوں نے ریاست پاکستان کے تمام قوانین کو پیروں تلے روندتے ہوئے اپنی بندوقوں کے رخ نہتے مظاہرین کی طرف موڑ دئیے۔


پاکستان کے حالات حضرہ کے بارے یہ کالم بھی پڑھیں

پاکستان میں فوج مخالف مظاہروں اور خون ریزی کی عالمی سازش


گولیوں کی تھر تھراہٹ سے تھانہ صدر کے علاقے کینال ویو،واپڈا ٹاون، سٹی ہاوسنگ سوسایٹی ،جلیل ٹاون ،جوڈیشل کالونی لرز گئے۔  جائے وقوعہ پر قیامت صغریٰ برپا تھی۔ قریبی لوگوں کے پہنچنے پر معلوم ہوا کہ بہت سے لوگوں کو گولیاں لگ چکی تھیں ۔ بعد ازاں اطلاعات کے مطابق مظاہرین میں شامل دو متاثرین افراد رانا امجد اورعمران جان بحق ہو گئے۔ جبکہ زخمیوں میں شامل تیسرا بائیس سالہ نوجوان عقیل کئی گھنٹوں زندگی موت کی کشمکش میں آخر کار جان کی بازی ہار گیا۔

باشعور عوامی حلقوں میں اس دل دہلا دینے والے واقعہ کی وجہ سے مقامی پولیس اور ضلعی اننتظامیہ کے کمشنر، ڈپٹی کمشنر، ڈی جی جی ڈی اے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اور کڑی تنقیدی انگلیاں اٹھ گئی ہیں۔ خواص و عوام پوچھتے ہیں کہ اس سارے معاملے میں آخر کون جھوٹا اور کون سچا ہے۔ گذشتہ پندرہ دنوں سے رائل پام سٹی کے متاثرین اوجلا ڈویلپرز کے مالکان کیخلاف اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور زمینوں کے لین دین میں کڑی ناانصافیوں پر حکومت اور ضلعی انتظامیہ کے اعلی افسران سے داد رسی اور انصاف کے حصول کیلئے مطالبات کر رہے تھے۔  مگر کیا مجال ہے کہ انتظامیہ کے افسروں کے کانوں پر کوئی جوں بھی رینگی ہو۔

اس سارے پس منظر میں ڈی ایس پی میاں معظم کے حوالے سے شہری حلقوں میں عجیب خوف اورعدم تحفظ جیسا تاثر پایا جاتا ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق موصوف کا اس تصادم میں بڑا اہم کردار ہے۔ یہ صاحب اس سارے ہولناک سانحہ میں اپنے فرائض منصبی کسی بھی طور پر صحیح طور پر ادا کرتے نظر نہیں آئے۔ افسوس کہ  کینال ویواور بائی پاس کا علاقہ کئی گھنٹے میدان جنگ بنا رہا مگر مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرنے والی پولیس اورانتظامیہ خاموشی سوئی رہی۔ اس سانحہ کے حوالے سے ضلعی حکومت کی بد انتظامی اور جعلسازیوں کی بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔

ڈی ایس پی میاں معظم کے تھانوں کی حدود میں ماسٹر ٹائل انڈسٹری کے مالکان شیخ محمود احمد بھی سونا اگانے والی زمینوں کو برباد کر کے رہائشی تعمیراتی کاروبار میں کود چکے ہیں۔

شہر سے دور بہترین زرعی رقبہ کو بنجر کر کے کئی ہزاروں ایکڑ زمین پر پوش رہایشی منصوبے لے پیرس کو لانچ کرنے کا سر عام اعلان کر دیا گیا ہے۔ اور ریاستی قوانین سے متصادم طریق اپنا کر عوام الناس لو لوٹنے کا پروگرام شروع ہے ۔ ایک عام سے رجسٹریشن فارم کی مالیت کوئی دو چار سو نہیں بلکہ ایک لاکھ پچیس ہزار مقرر کی گئی ہے۔

جبکہ مجھے ملنے والی مصدقہ اطلاعات کے مطابق کسی حکومتی منظوری اور قانونی لوازمات پورے کیے بنا تیس ہزار کے قریب لوگوں کو یہ فارم فروخت کیے جا چکے ہیں۔ اربوں روپے لے پیرس کے نجی خزانہ میں جمع ہو چکے ہیں۔ عوامی حلقوں میں یہی تاثر ہے کہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ نے ان معاملات سے چشم پوشی برتی اور غیر قانونی معاملات کا فوری نوٹس نہ لیا تو خدشہ ہے کہ رائل پام سٹی کے متاثرین کی طرح لے پیرس کے متاثرین کے مقتل کا ایک اور سانحہ برپا ہو گا۔

خاکم بدہن آئیندہ کبھی ایسا ہو مگر جب بھی اس طرح کے کسی خون ریز سانحہ کی بازگشت سنائی دی ، خدا نخواستہ جب بھی ایسا کوئی اور سانحہ برپا ہوا میری یہ تحریر سند رہے گی کہ میں نے انتظامیہ کی سوئی ہوئی آتما کو جگانے کیلئے ایک مخلص سعی کی تھی۔ میں نے عوام الناس میں ایسے جعلسازوں سے بچنے کیلئے آگاہی کا چراغ اور شعور و آگہی کی شمع جلائی ہے۔

کالم نگار : دلشاد علی ۔ ایڈیٹر ڈیلی مخلوق


پاکستان ڈیفنس پر یہ آرٹیکل بھی پڑھیے

پاک فضائیہ کے ایف ۔ 16 فالکن اور انڈین رافیل طیاروں کا موازنہ اور حقائق

LATEST NEWS

CHINESE NEWS

OUR DEFENCE NEWS SITE

spot_img

INDIAN NEWS