Friday, October 22, 2021

دفتری کولیگ لڑکی کی غیر اخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے والا گرفتار

ملزمان نے اپنے اسلام آباد آفس کی کولیگ لڑکی کی تصاویر صرف سوشل میڈیا ہی پر وائرل نہیں کیں بلکہ اس لڑکی کی رہائش گاہ کی گلی کی دیواروں پر بھی چسپاں کی ہیں

اسلام آباد پولیس نے رشتے کے تنازعے پر اپنے دفتری کولیگ لڑکی کو بلیک میل کرنے کیلئے اس کی غیر اخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے اور لڑکی کے رہائشی محلے کی دیواروں پر چسپاں کرنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کرلیا ہے۔

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ حراست میں لیا جانے والا ملزم اور اس کا ایک ساتھی متاثرہ لڑکی کے ساتھ ایک ہی دفتر میں کام کرتے رہے ہیں۔ تھانہ آبپارہ پولیس سٹیشن کے انچارج سلیم رضا نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے تھانے کی حدود میں رہائش پذیر ایک خاتون نے تھانے میں درخواست دی کہ دو افراد نے ان کی تصاویر نہ صرف سوشل میڈیا پر وائرل کیں بلکہ ان کو ڈاک کے ذریعے پوسٹ کر کے ان کے رشتہ داروں کو بھی بھجوائی ہیں۔

علاقے کے رہایشیوں کے مطابق ان ملزمان نے صرف اسی پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ جس گلی میں متاثرہ خاتون رہائش پذیر ہیں اس گلی کی دیواروں پر بھی چسپاں کی ہیں۔ ایس ایچ او آبپارہ کے مطابق اس واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے جو سب سے پہلا کام کیا وہ یہ تھا ان تصاویر کو فوری طور پر گلی سے اتارا گیا۔

اسلام آباد پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی اسلام آباد میں ایک پرائیویٹ دفتر میں کام کرتی تھی جہاں ملزمان بھی کام کرتے تھے۔ پولیس کے مطابق اس مقدمے میں نامزد ایک ملزم درخواست گزار لڑکی کا رشتہ دار بھی ہے اور وہ لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن لڑکی کے گھر والوں نے یہ رشتہ دینے سے انکار کر دیا۔

مقامی پولیس کے مطابق رشتے سے انکار کے بعد ملزمان متاثرہ لڑکی کی تصاویر سامنے لے آئے جو پولیس کے بقول انھوں نے اس وقت لے تھیں جب اس لڑکی کی ان میں سے ایک کے ساتھ دوستی تھی۔

پولیس نے لڑکی کی درخواست پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ان دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے اس مقدمے میں نامزد ایک ملزم عبدالحفیظ کو اس کے زیر استعمال موبائل کی لوکیشن سے گرفتار کر عبدالصبور کے اس کے قبضے سے موبائل اور دیگر اشیا برآمد کر لی ہیں۔ پولیس نے ملزم کا جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کرلیا ہے جبکہ دوسرے ملزم کی گرفتاری کے لیے دو ٹیمیں لاہور روانہ کردی گئی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ زیر حراست ملزم کے زیر استعمال موبائل کو فرانزک لیبارٹری میں بجھوا دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دوران تفتیش ملزم نے بتایا کہ اصل تصاویر اور ویڈیو اس کے ساتھی کے پاس ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دوسرے ملزم کی گرفتاری کے بعد مزید حقائق سامنے آنے کا امکان ہے۔

( پرائویسی اور پردہ دری کیلئے پوسٹ میں شائع شدہ تصویر فرضی ہے)


کشمیر میں عورت پر ریاستی مظالم کے بارے میرا یہ کالم بھی پڑھیں

قدیم ہندو تہذیب سے مودی تک عورت پر ظلم کی کہانی اور کشمیر میں ریاستی دہشت گردی

اہم خبریں

تازہ ترین خبریں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here