Monday, August 2, 2021

عرب خواتین کی می ٹو ہیش ٹیگ کمپین ریاستی اور معاشرتی نظام کیخلاف انقلابی بیداری ہے

کویت ہی نہیں بلکہ پورے عرب میں صرف مقامی خواتین ہی نہیں روزگار کیلئے آئی ہوئی پاکستانی، بھارتی اور فلپائنی سمیت تمام غیر ملکی خواتین کو بھی جنسی استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے

عرب ممالک کی نئی نسلوں میں شخصی تحفظ ، آزادیء اظہار کا ذہنی انقلاب اور موروثیت پرور بادشاہتوں کے نظام سے بغاوت نمایاں ہو رہی ہے۔ خواتین میں سر اٹھا کر بات کرنے کی جرآت سے معاشرتی استحصال کیخلاف موجزن باغی جذبہ اجاگر ہو رہا ہے۔ ماضی میں خاموش جبر سہنے والی عرب عورت کے برخلاف آج کی ماڈرن عورت خود کو درپیش مسائل پر کھل کر بات کرنے کیلئے زبان رکھتی ہے۔ گذشتہ دنوں کویت میں ایک فیشن بلاگر نے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے حوالے سے ویڈیو شیئر کی تو وہاں ہر طرف ” می ٹو مہم ” شروع ہوگئی

کویت میں اچانک شروع ہونے والی “می ٹو مہم” نے نہ صرف کویت بلکہ دوسرے عرب ممالک کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ عورت کو معاشرے میں جرآت مندانہ بات کرنے کی ترغیب دینے والی یہ مہم بہت جلد مشرق وسطی ممالک کے دوسرے ممالک میں بھی پھیل جائے گی۔

کویت میں ” می ٹو مہم ” اس وقت شروع ہوئی جب کہ گزشتہ ہفتے امریکی نژاد کویتی فیشن و بیوٹی بلاگر آسیا ال فرج نے انسٹاگرام پر ڈھائی منٹ دورانیے کی ویڈیو میں کویت میں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے حوالے سے کھل کر بات کی۔

آسیا ال فرج نے انگریزی میں شیئر کی گئی ویڈیو میں اس معاشرتی برائی کو بے باک انداز میں اجاگر کیا ہے کہ کویت کی ہر گلی میں ان سمیت دیگر خواتین کو جنسی طور پر زبانی و جسمانی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔

انہوں نے جنسی طور پر ہراسگی کا نشانہ بننے والی خواتین کی خاموشی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ خواتین کو اپنے ساتھ ہونے والی کسی ناانصافی کیخلاف آواز اٹھانے میں کوئی شرمندگی نہیں ہونی چاہئے۔ آسیا ال فرج کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ خواتین کے ساتھ معاشری ناانصافی اور استحصال کے واقعات کو سامنے لایا جائے۔

آسیا ال فرج نے اپنے ساتھ ہونے والے کسی قابل اعتراض واقعہ کا ذکر کرنے کی بجائے کویت کی خواتین کو مجموعی طور پر درپیش   جنسی ہراسگی کے غیر اخلاقی رحجان کو اجاگر کیا ہے


سعودی عرب میں  سینما اور فلم کے فروغ کے بارے یہ خبر بھی پڑھیں

سعودی عرب میں سینما کے فروغ اور ماڈرن فلم پروڈکشن کیلئے شاہی سرپرستی بڑی غیر متوقع تبدیلی ہے


آسیا ال فرج کے مطابق کویت میں صرف مقامی خواتین ہی نہیں بلکہ یہاں روزگار کیلئے آئی ہئیں پاکستانی، بھارتی اور فلپائنی خواتین سمیت تمام غیر ملکی خواتین کو بھی جنسی استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ لیکن وہ اپنے وطن سے دوری کی مجبوری اور اپنے روزگار کی خاطر یہ سب ہراسگی اور استحصال برداشت کرتی ہیں۔

آسیا ال فجر کی ویڈیو جاری کئے جانے کے بیرون ملک سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کر کے حال ہی میں وطن لوٹنے والی 27 سالہ شائمہ شیمو نے لن اسکت نامی ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ بنایا ہے ۔ انہوں نے کویتی خواتین کو اپنے ساتھ ہونے والے واقعات شئیر کرنے کا کہا ہے۔

شائمہ شیمو نے اپنے اکاؤنٹ میں ایک گوگل فارم کا لنک بھی دیا ہے۔  جس میں ہراسگی کا نشانہ بننے والے افراد کو اپنے ساتھ ہونے والے واقعات کی تفصیلات بھیجنے کی اپیل کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ عربی لفظ ” لن اسکت ” کے معانی اب میں خاموش نہیں رہوں گی ہے۔ اسی نام سے انسٹاگرام اکاؤنٹ بنائے جانے کے بعد امریکہ سمیت کئی غیر ملکی سفارت خانوں کی شخصیات اورعام کویتی بھی اسی ہیش ٹیگ کو استعمال کرتے ہوئے ہراسگی کے واقعات پر بات کر رہے ہیں۔

میرے مطابق عرب خواتین کا یہ بے باکانہ انداز عرب معاشرے میں ایک اہم تبدیلی اور خطے میں بادشاہت اور خلافتوں کے موروثی  نظام کیلئے ” عرب کی نئی نسل اور معاشرہ جاگ رہا ہے ” کی صورت میں ایک بڑے انقلاب جیسا سیاسی خطرہ ہے۔


کشمیر میں عورت پر روا مظالم کے بارے یہ کالم بھی پڑھیں

قدیم ہندو تہذیب سے مودی تک عورت پر ظلم کی کہانی اور کشمیر میں ریاستی دہشت گردی

LATEST NEWS

CHINESE NEWS

OUR DEFENCE NEWS SITE

spot_img

INDIAN NEWS