Monday, August 2, 2021

عمران خان حکومت کے ڈھائی سالہ دور میں قرضوں میں 21 کھرب کا اضافہ

عمران خان کو ابھی تک کوئی ھی ایسا مستقل وزیر خزانہ نہیں مل سکا جو معیشت کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو سنبھال سکے۔ جبکہ دوسری پارٹیوں سے تحریک انصاف میں لائے ہوئے پیشہ ور سیاست دان حکومت میں شامل کرنے کی پالیسی مکمل ناکام ثابت ہوئی ہے ۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ ایک سال کے دوران پاکستان کے ذمہ مجموعی قرضوں میں 36 کھرب اور 92 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے گذشتہ برس نومبر 2020 تک پاکستان کے واجب الادا  قرضوں کی تفصیل جاری کین ہیں ۔ جن کے کے مطابق نومبر 2020 تک پاکستان کے قرضوں کا حجم 358 کھرب اور 22 ارب روپے تھا۔


  رحیم شاہ کی سیاست دانوں اور حکمرانوں تک رسائی کے بارے یہ مضمون بھی پڑھیں  

حریم شاہ کی بے باک ویڈیوز شئیرنگ کے پس پردہ مقاصد اور تلخ حقائق کیا ہیں؟

موجودہ حکومت کے صرف ڈھائی سالہ دور حکومت میں 14 کھرب روپے اور اب تک 21 کھرب روپے قرض بڑھا ہے۔ جس سے پاکستانی معیشت کوزبردست نقصان پہنچا ہے۔ خیال رہےکہ یہ مالی بوجھ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 98.3 فیصد کے برابر ہے۔ یاد رہے کہ نون لیگی حکومت کے 5 سالہ دور میں ملکی قرضوں میں ساڑھے  15 کھرب روپے کا اضافہ ہوا تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے 5 سالہ دور میں قرضوں میں سوا 8 کھرب ارب روپے کا اضافہ ہواتھا ۔ جبکہ مشرف کے 9 سالہ دور میں قرضوں میں صرف 3 کھرب روپے کا اضافہ ہوا تھا۔

موجودہ حکومت کو ابھی تک ایسا کوئی وزیر خزانہ نہیں مل سکا جو پاکستانی معیشت کی دوبتی ہوئی کشتی کو سنبھال سکے۔ اس حوالے سے دوسری پارٹیوں سے تحریک انصاف میں آئے ہوئے پیشہ ور سیاست دانوں کو حکومت میں شامل کرنے کی پالیسی مکمل ناکام اور کرپشن روکنے کے تمام وعدے غلط ثابت ہوئے ہیں ۔


  پاکستان کے روبوٹکس ٹینگ کے بارے یہ مضمون بھی پڑھیں  

پاکستان کے لیزر گائیڈڈ ہتھیاروں سے لیس زمینی ڈرون ۔ روبوٹکس ٹینک

LATEST NEWS

CHINESE NEWS

OUR DEFENCE NEWS SITE

spot_img

INDIAN NEWS