Monday, August 2, 2021

پاکستان کی ناقص ٹیم سلیکشن ، سست بیٹنگ اور فائٹنگ سپرٹ سے عاری شکست شکوک و شبہات چھوڑ گئی

بلاشبہ کرکٹ میں ہار جیت کھیل کا حصہ ہے لیکن کرکٹ کی کرپشن کہانیوں کے اس ماڈرن بک مافیہ دور میں پاکستان کی مشکوک ٹیم سلیکشن ، ناقص حکمت عملی اور سست رفتار بیٹنگ کا غیر پیشہ ورانہ انداز اپنے پیچھے کئی سوال چھوڑ گیا ہے

پاکستان آج دوسرے ٹی 20 میچ میں جنوبی افریقہ کیخلاف بڑے واضع مارجن سے شکست کھا گیا۔ اس میچ میں پاکستانی بلے بازوں کی  مشکوک اور ناقص کارکردگی کے باعث جنوبی افریقہ نے 147 رنز کا مطلوبہ ہدف تقریباً چار اوور پہلے ہی پورا کر لیا۔ محمد رضوان نے ایک مرتبہ پھر عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور 41 گیندوں پر 51 رنز کی اننگز کھیلی۔

مسلسل فلاپ ہونے والے حسین طلعت اور حارث رؤف کی انٹرنیشنل سٹینڈرڈ سے کمتر کلب لیول جیسی ناقص کارکردگی کے باوجود انہیں مسلسل چانس دیا جانا حیران کن ہے۔  محمد آصف ، محمد حسین اور آل راؤنڈر عماد وسیم جیسے ٹی 20 سپیشلسٹ کا ٹیم میں شامل نہ ہونا ٹیم سلیکشن پر سوالیہ نشان ہے۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے پریٹوریئس نے پانچ کھلاڑی آؤٹ کیے جبکہ لیفٹ ہینڈ چائنا مین سپنر تبریز شمسی نے چار اوورز میں صرف 16 رنز دیکر ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ وکٹ سپنرز کیلئے سازگار ہونے کے باوجود محمد نواز سے باؤلنگ کا آغاز نہ کروایا جانا حیران کن تھا۔ ٹیم میں دستیاب سپنرز خوش دل شاہ اور افتخار کی سپن باؤلنگ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔

پاکستان کے حیدرعلی نے 10، ٹی 20 فارمیٹ کیلئے نااہل حسین طلعت نے 7 گیندوں پر صرف 3 اور افتخار احمد نے 20 رنز سست رفتاری سے بنائے۔ ان بیٹسمینوں کی سست روی کے باعث دوسرے اینڈ پر رضوان پر مسلسل دباؤ رہا اور پاکستان آج پہلے ٹی 20 جیسا بہتر سکور نہ کر سکا


بھارت اور یو اے ای کے دفاعی تعلقات کے بارے یہ خبر بھی پڑھیں

متحدہ عرب امارات ، بھارت اور فرانس مشترکہ جنگی مشقیں اور فضائی تعاون کریں گے


پاکستان کی ناقص پلاننگ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 12ویں اوور سے 17 ویں اوور تک جن اوورز میں رن ریٹ بڑھانے کی اشد ضرورت ہوتی ہے اسی اہم مرحلے پر پاکستان کا اوسط رنز ریٹ 6 رنز فی اوور سے بھی کم رہا۔  البتہ فہیم اشرف کی جانب سے 12 گیندوں پر 30 رنز کی جارحانہ اننگز کے باعث پاکستان 145 رنز کا ہدف دینے میں کامیاب ہوا۔

بلاشبہ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے لیکن کرکٹ کی کرپشن کہانیوں کے اس دور میں جہاں پاکستان کی مشکوک ٹیم سلیکشن اور سست رفتار بیٹنگ کا غیر پیشہ ورانہ انداز اپنے پیچھے کئی سوال چھوڑ گیا ہے۔ وہاں ٹیم کا فائٹنگ سپرٹ کے بغیر اتنی آسانی سے بڑے مارجن سے شکست کھا جانا کئی شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔

مصباح الحق کی ناقص کوچنگ اور بے ہنگم میچ پلاننگ کے باوجود ٹیم چند انفرادی کارکردگیوں کی بدولت جیت جاتی ہے۔ لیکن اس ٹیم میں درست سلیکشن ، پروفیشنل ازم ، یک جہتی، فائٹنگ سپرٹ اور میچ پلاننگ کا فقدان واضع نظر آتا ہے۔۔

تجزیہ کار : فاروق رشید بٹ

جنوبی افریقی کرکٹ ٹیم کی 14 سال بعد پاکستان آمد، 2 ٹیسٹ اور 3 ٹی ٹونٹی میچ کھلے گی

LATEST NEWS

CHINESE NEWS

OUR DEFENCE NEWS SITE

spot_img

INDIAN NEWS