Monday, August 2, 2021

ٹیم سلیکشن اور میچ پلاننگ میں غلطیوں کے باوجود پاکستان کو ٹی 20 کرکٹ سیریز کی فتح مبارک ہو

اپریل میں ساؤتھ افریقہ کیخلاف تین ون ڈے اور چار ٹی 20 میچوں کی سیریز کھیلی جائے گی، جس کیلئے سفارش سے پاک ٹیم مینجمنٹ اور سلیکشن کے حوالے سے بروقت اور سخت فیصلے کرنے ہوں گے

ناقص میچ پلاننگ اور ایک بار پھر حسین طلعت جیسے سفارشی کھلاڑی کی ضدی سلیکشن جیسے حقائق کے باوجود پاکستان کو ساؤتھ افریقہ کیخلاف ٹی 20 سیریز کی فتح مبارک ہو ۔ گو کہ کرکٹ اتفاقات کا کھیل ہے لیکن پاکستان کرکٹ ٹیم کی تاریخ مخالف ٹیموں کی آخری وکٹوں سے پٹائی اور آسان میچوں کو مشکل بنانے سے بھری پڑی ہے۔

آج تیسرے اور فیصلہ کن ٹی 20 میں ساؤتھ افریقہ کے صرف 65 رنز پر 7 کھلاڑی آؤٹ کرنے کے باوجود 164 رنز کا مضبوط ٹارگٹ بنوانے کا باعث خود پاکستان کی انتہائی ناقص حکمت عملی تھی۔ شاہین شاہ آفریدی یا حسن علی جیسے باؤلرز کا آخری اوور بچانے کی بجائے ایک کم تجربہ کار باؤلر فہیم اشرف سے آخری اوور کروانا انتہائی غلط فیصلہ تھا۔ آخری اوور میں 25 رنز کسی بھی سٹینڈرڈ کی کرکٹ میں ناقابل قبول ہیں۔

۔


پاکستانی مارشل آرٹس فائٹر کے ہاتھوں بھارتی شکست کے بارے یہ خبر بھی پڑھیں

۔

ایک بار پھر محمد رضوان کی ذمہ دارانہ بیٹنگ اور آخر میں محمد نواز اور حسن علی کے کلک کر جانے کی بدولت پاکستان ساؤتھ کو شکست دینے میں کامیاب رہا ہے۔ لیکن چوتھے اور پانچویں نمبر پر بیٹنگ کرنے کیلئے دو قابل اعتماد بیٹسمینوں کی شدید کمی محسوس ہوئی۔ ان پویشنوں کیلئے افتخار احمد اور محمد آصف کو تسلسل کے ساتھ مواقع دینا ضروری ہیں۔ فاسٹ باؤلنگ آل راؤنڈر کی پوزیشن کیلئے فہیم اشرف کی جگہ کوئی دوسرا آپشن تلاش کرنا ہو گا۔ امید ہے کہ عماد وسیم اور شاداب کے واپس آنے سے مڈل اوورز کی بیٹنگ میں بہتری آئے گی۔

نئے رائٹ آرم لیگ سپنر محمد زاہد اور دیگر سپن باؤلرز کی اچھی باؤلنگ کی وجہ سے مشکلات میں گھری ہوئی ساؤتھ افریقن ٹیم کو دباؤ سے نکالنے میں کپتان کے آن دی فیلڈ غلط فیصلوں نے اہم کردار ادا کیا۔ بابر اعظم ایک اچھے کپتان ثابت ہوں گے لیکن ضروری ہے کہ انہیں ٹیم کوچ مصباح الحق کی بنائی ہوئی حکمت عملی اپنانے کی بجائے بحیثیت کپتان اپنے فیصلوں کی آزادی دی جائے۔

صرف دو ماہ بعد اپریل میں ساؤتھ افریقہ کیخلاف تین ون ڈے  اور چار ٹی 20 میچوں کی سیریز کھیلی جائے گی، اس سیریز کیلئے سفارشی کھلاڑیوں سے جان چھڑوان سب سے ضروری ہے۔  ٹیم مینجمنٹ اور میرٹ پر سلیکشن کے حوالے سے بروقت اور سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔ خیال رہے کہ ساؤتھ افریقہ کی تیز اور سیمنگ وکٹوں پر تکنیکی اعتبار سے کمزور بیٹسمین ہمیشہ فلاپ رہتے ہیں۔ لہذا ون ڈے کیلئے اظہر علی اور ٹی 20 کیلئے محمد حفیظ کے تجربے کو اگلے ورلڈ کپ تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان زندہ و پائیندہ باد


پاکستان کے غزنوی میزائیل کے کامیاب تجربے کے بارے یہ خبر بھی پڑھیں

پاکستان کا ایٹمی وار ہیڈ لیجانے کی صلاحیت والے غزنوی بیلسٹک میزائیل کا کامیاب تجربہ

LATEST NEWS

CHINESE NEWS

OUR DEFENCE NEWS SITE

spot_img

INDIAN NEWS