Saturday, April 17, 2021

عالمی عدالت کے فیصلے سے پی آئی اے کے امریکہ اور فرانس میں اربوں ڈالرز کے ہوٹل ضبط ہو جائیں گے

برٹش ورجن آئی لینڈ کی عدالت نے پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کی ملکیت کمپنیوں نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل اور پیرس کے سکرائب ہوٹل کے حصص تیتھیان کاپر کمپنی کو دے دییے ہیں۔ جبکہ پاکستانی حکام نے اثاثوں کو بچانے کیلئے کوششیں تیز کردی ہیں۔

انٹرنیشنل کورٹ کی طرف سے ریکو ڈیک کیس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کے اثاثوں کو منجمد کرنے کے اقدام کے بعد پی آئی اے نیویارک میں اپنا اربوں ڈالر کا روزویلٹ ہوٹل کھو سکتی ہے

جبکہ امریکہ اور فرانس میں ہوٹلوں سمیت اثاثوں کو منجمند کرنے کا فیصلہ بحران کا شکار پاکستانی ایئر لائن کی بڑھتی ہوئی پریشانیوں کا تازہ ترین واقعہ ہے۔ یاد رہے کہ پی آئی اے کے غیر ملکی عدالتوں میں ایسے بہت سے معاملات زیر التوا ہیں۔ ایک اور اربوں ڈالر کے ریکو ڈیک کیس میں اہم سماعت 18 جنوری کو لندن کی ایک عدالت میں تھی ، جس میں پاکستان نے پہلی بار وکلاء کے پینل کے ذریعے اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی کے لئے درخواست دائر کی تھی۔

انٹرنیشل کورٹ میں ریکو ڈیک کیس میں پاکستان انٹرنیشنل ائر لائن کو 6 ارب ڈالر تک جرمانے کا سامنا ہے۔

برٹش ورجن آئی لینڈ کی عدالت نے پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کی  ملکیت تین کمپنیوں کے حصص جن میں نیویارک کا روزویلٹ ہوٹل اور پیرس کا سکرائب ہوٹل شامل ہے تیتھیان کاپر کمپنی کو دے دیے ہیں۔ جبکہ پاکستان میں حکام نے اثاثوں کو بچانے کیلئے کوششیں تیز کردی ہیں۔

سرمایہ کاری تنازعات کے حل کیلئے  بنائے گئے بین الاقوامی سینٹر (آئی سی ایس آئی ڈی) نے جو عالمی بینک کا ثالثی ٹریبونل ہے ، جولائی 2019 میں تیتھیان کاپر کمپنی کے ساتھ سونے اور تانبے سے متعلق ایکسپلوریشن لائسنس منسوخ کرنے پر پاکستان کو 5.9 بلین ڈالرز کا زبردست جرمانہ کیا تھا۔

ریکو ڈیک کان بلوچستان میں چاغی کے صحرائی علاقے میں واقع ہے۔ اور سونے اور تانبے کے بڑے ذخائر کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس کان میں دنیا کا پانچواں سب سے بڑا سونے کا ذخیرہ ہونے کا اندازہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس خطہ سے سالانہ  دو لاکھ ٹن تانبہ اور اور دو لاکھ پچاس ہزار اونس سونا حاصل کیا جا سکتا ہے۔

ٹی سی سی کو کان کا معاہدہ دیا گیا تھا ، نے کانوں سے سالانہ  3.4 بلین ڈالرز کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ مجموعی طور شفافیت کے خدشات کے پیش نظر ٹی سی سی کے معاہدے کو اچانک اچانک بلوچستان کی ایک عدالت نے منسوخ کردیا تھا۔ بعد میں مزید قانونی رکاوٹوں کے نتیجے میں پاکستان نے اس معاہدے کو مکمل طور پر منسوخ کردیا گیا۔

پاکستان کے ٹکٹیکل میزائیلوں کے بارے یہ مضمون بھی پڑھیں

پاکستان کے ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار حتف اور نصر بھارتی جارحیت کیلئے سڈن ڈیتھ

بی بی سی کے مطابق 18 جنوری کو وکلاء کے ایک پینل کی سماعت میں پاکستان کی نمائندگی ہونی تھی ، نہ صرف حکومت پاکستان بلکہ پی آئی اے کی طرف سے بھی۔ یہ واضح نہیں ہے کہ عدالت کس حد تک کوششوں کے ذریعہ پاکستان کو کچھ حد تک ریلیف اور اپنے غیر ملکی اثاثوں کی حفاظت کرنے میں کامیاب ہے۔

 پی آئی اے نے عدالت کو اس بات پر راضی کرنے کیلئے وکیل مقرر کیا ہے کہ وہ حکومت پاکستان کے خلاف کسی معاملے میں کمپنی کو سزا نہ دے۔ جبکہ 2019 کی رپورٹ کے مطابق پی آئی اے کے ان بین الاقوامی اثاثوں کی مالیت فی الحال ایک ارب ڈالر سے بھی کم ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ اثاثے ضبط کرلیں تو بھی ، غیر ملکی کمپنی ٹی سی سی اپنے تقریبا 6 بلین ڈالر کا ہدف حاصل نہیں کرسکے گی۔ اس رپورٹ میں روزویلٹ ہوٹل کی قیمت 560 ملین ڈالر بتائی گئی ہے۔

تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نےاس معاملے میں اپنی پوزیشن کو ابھی تفصیل سے پیش کرنا ہے۔ اس سلسلے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان کی طرف سے جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان دنیا میں کہیں بھی اپنے اثاثوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کی پوری کوشش کرے گا۔

 رپورٹ : فاروق رشید بٹ

پاکستان کے بڑھتے ہوئے قرضوں میں اضافے کے بارے یہ خبر بھی پڑھیں

پاکستان کے قرضوں میں 37 کھرب اور پی ٹی آئی کے ڈھائی سالہ دور میں 21 کھرب کا اضافہ

LATEST NEWS

CHINESE NEWS

OUR DEFENCE NEWS SITE

spot_img

INDIAN NEWS