Saturday, April 17, 2021

پاکستان سپر لیگ کرکٹ کا رنگ برنگا میلہ اور انٹرنیشنل کرکٹ میں انڈین جوا مافیہ کا راج

حقائق یہی ہیں کہ کرکٹ ٹیموں کے کھلاڑیوں کی قیمت اور دیگر اخراجات ان میچوں کی آمدنی سے بیس گنا زیادہ ہوتے ہیں۔ لہذا جب تک جوا بازی اور میچ فکسنگ جیسے مجرمانہ دھندوں سے آمدن نہ ہو ٹورنامنٹس کا انعقاد ناممکن ہے

پی ایس ایل کے ست رنگی سیزن 6 کا آغاز ہو چکا ہے۔ ماڈرن شوبز اور جدید میڈیا کے امتزاج نے کرکٹ میچوں کی رنگینی اور مزاج کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب کرکٹ میچوں کا ماحول کسی رنگ برنگے میلے کا سماں پیش کرتا ہے۔

لیکن طالب علموں اور مزدوروں سے لیکر بزنس مین طبقہ تک جوا میچوں پر جوا بازی کے ” شغل” میں مصروف اتے ہیں۔ کرکٹ میں جوا بازی کے گورھ دھندے نے کرکٹ سے فیئرپلے گیم کی شناخت چھین لی ہے۔ ڈومیسٹک سے انٹرنیشنل کرکٹ تک میچ فکسنگ اور جوامافیوں کے گھناؤنے کاروبار میں بدل رہی ہے۔ برطانیہ اور آسٹریلیا سے ایشیا تک کی کرکٹ گراؤنڈز تک بھارتی بک میکرز کا نیٹ ورک فعال ہے۔  اور ان طاقتور مافیوں کی رسائی اور اثر و رسوخ تمام کرکٹ پلئینگ نیشنز کے حکومتی ایوانوں تک ہے


پاکستانی مارشل آرٹ فائٹر کی بھارت کیخلاف جیت کی یہ خبر بھی پڑھیں

پاکستانی مارشل آرٹس فائٹر احمد مجتبی نے بھارتی فائٹر کو صرف 56 سیکنڈز میں ناک آؤٹ کر دیا


اس حوالے سے ماضی میں کئی اہم کرکٹ شخصیات نے اہم انکشافات کئے ہیں ، لیکن ہمیشہ کی طرح جوا مافیوں کیخلاف اٹھنے والی ایسی تمام تگڑی آوازیں حکومتی خاموشی اور کرکٹ بورڈز میں بیٹھے ہوئے بک میکرز ایجنٹس کے نیٹ ورکس کے دفاتر کی چار دیوریوں میں خاموش ہو گئی۔

ماضی میں کئی کرکٹز نے ڈومسٹک اور انٹرنیشنل کرکٹ میں بک میکرز کے اثر و رسوخ کے بارے آواز اٹھائی ہے ۔ متحدہ عرب امارات ، بھارت اور پاکستان سے لیکر آسٹریلیا اور انگلینڈ کی گراؤنڈز اور کرکٹ بورڈوں تک میں انڈین بک مافیوں کا راج ہے۔ بھارت کیخلاف ٹیسٹ ، ون ڈے اور ٹی 20 میچوں میں مخالف ٹیموں کی کھلاڑی انڈین بک میکرز کی ہدایات کے مطابق پرفارم کرتے ہیں۔ جبکہ نان انڈین کھلاڑی بھارت کیخلاف ٹیموں کی کارکردگی بھارتی آقاؤں کے اشاروں کی حدود میں رہتی ہے۔

غیر ملکی کھلاڑی انڈین لیگ میں بڑے معاوضوں کے پیش نظر اپنے ملک سے وفا بھول جاتے ہیں ۔ جو غیر ملکی انڈٰین بورڈ اور بک میکروں کے اشاروں پر نہیں چلتے ، انڈین کرکٹ لیگ میں ان کا ریٹ کم لگتا ہے۔ چشم کشا حقائق ہیں کہ بھارتی کرکٹرز کی مشکوک پرفارمنس اور میچ فکسنگ خبریں گرم رہتی ہیں۔ لیکن انڈین بورڈ اور جوا مافیوں کے تعلق کی وجہ سے کبھی کسی بھارتی کھلاڑی پر میچ فکسنگ کے جرم میں پابندی نہیں لگی۔ لیکن پاکستان کے کئی کھلاڑیوں کو پھنسا کر ان پر پابندیوں سے کیریئر تباہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کرکٹ میں بھی باب وولمر کیس سے لیکر سلیم ملک سکینڈل تک بک مافیوں کی پراسرار داستانوں کی صدائے بازگشت رہی ہے۔ یاد رہے کہ سابق ٹیسٹ کرکٹرسرفراز نواز نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی کیخلاف سنگین الزامات کی عائد کئے تھے۔

سرفراز نواز نے کہا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا سربراہ خود جواری ہوتا ہے۔ جواریوں کا احتساب کرنے کی بجائے ، وہ کرکٹ بورڈ میں شامل کیے جاتے ہیں۔  ملکی اور بین الاقوامی کرکٹ کے کرتا دھرتا جوا مافیوں کیخلاف کارروائی کے بجائے ان کے آلہ کاروں کو تحفظ دینے کیلئے بڑے عہدے دیتے ہیں۔

اہم نقطہ یہ ہے کہ کرکٹ ٹیموں کے کھلاڑیوں کی قیمت اور دیگر اخراجات میچوں سے حاصل کردہ آمدنی سے بیس گنا زیادہ زیادہ ہوتے ہیں۔ لہذا جب تک کرکٹ میچوں پر جوا بازی اور میچ فکسنگ جیسے مجرمانہ دھندوں سے آمدنی نہ ہو میچوں اور ٹورنامنٹس کا انعقاد ہی ناممکن ہے۔ پاکستانی کرکٹ کے فروغ اور کرکٹ کے کھیل کو بچانے کیلئے اسے انڈین جوا مافیہ کی گھناؤنی دسترس سے بچانا اہم ترین ٹاسک ہے۔

تحریر : فاروق رشید بٹ


پاکستان کے شاہین میزائل کے تجربے کے بارے یہ خبر بھی پڑھیں

پاکستان نے 2750 کلومیٹرز کی رینج والے بیلسٹک میزائل شاہین تھری کا کامیاب تجربہ کیا


 

LATEST NEWS

CHINESE NEWS

OUR DEFENCE NEWS SITE

spot_img

INDIAN NEWS