Saturday, April 17, 2021

موسم کی شدید خرابی کے باعث محمد علی سدپارہ اور دیگر کوہ پیماؤں کی تلاش کو معجزے کا انتظار ہے

موسم کی شدید خرابی کے باعث ریسکیو اینڈ سرچ اپریشن میں تعطل سے وقت گزرنے کے ساتھ لاپتہ کوہ پیماؤں کے زندہ بچنے کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔

طوفانی ہواؤں اور خراب موسم کے باعث کے ٹو کی چوٹی کو موسم سرما میں بغیر آکسیجن کے سر کرنے کی کوشش میں لاپتہ ہونے والے پاکستان کوہ پیما محمد علی سد پارہ اور ان کے دو غیر ملکی جوہ پیما ساتھیوں جان اسنوری اور جان پابلو مہر کی تلاش کا کام تعطل کا شکار ہے۔ موسم کی شدید خرابی کے باعث وقت گزرنے کے ساتھ کوہ پیماؤں کے زندہ بچنے کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق تلاش کرنے والی ٹیمیں موسمی حالات کی بہری کے انتظار میں سٹینڈ بائی ہیں۔ جونہی طوفانی ہواؤں کی شدت میں کمی ہوئی سرچ اپریشن آگے بڑھایا جائے گا۔

اس پہاڑی علاقے میں موسم کی پیش گوئی کے مطابق آج  بدھ دوپہر کے وقت موسم خشک اور درجہ حرارت  منفی 35 ڈگری رہے گا۔ تاہم  بدھ کی رات کو سرد ہوا کے شدید طوفانی جھکڑ چلیں گے۔ جبکہ جمعرات کی دوپہر درجہ حرارت منفی 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جانے کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ محمد علی سدپارہ اور ان کے ساتھی کوپیماؤں کو آخری مرتبہ کے-2  چوٹی کے بوٹل نیک نامی مقام پر دیکھا گیا تھا۔ جبکہ ان کوہ پیماؤں کی تلاش کا کام موسم کی مسلسل خرابی کی وجہ سے  متاثر ہو رہا ہے۔ پاکستان کے کوہ پیما محمد علی سد پارہ، آئس لینڈ کے جان اسنوری اور چلی کے جان پابلو موہر سے اس وقت رابطہ منقطع ہوگیا تھا جب انہوں نے 4 اور 5 فروری کی درمیانی شب بیس کیمپ تھری سے کے- ٹو کی چوٹی کی طرف سفر کا آغاز کیا تھا۔


امریکہ چین تنازعہ کے بارے یہ خبر بھی پڑھیں

جوبائیڈن کے آتے ہی امریکی جنگی جہازوں کے چینی سمندر میں جارحانہ اپریشن عالمی امن کیلئے خطرناک ہیں


 

محمد علی سد پارہ کے بیٹے ساجد سد پارہ بھی بوٹل نیک کے مقام تک ان تینوں کوہ پیماؤں کے ہمراہ تھے۔ لیکن وہ آکسیجن ریگولیٹر میں خرابی مسائل کی وجہ سے کیمپ 3 پر واپس آ گئے تھے۔

تینوں کوہ پیماؤں کا جمعے کی رات کو بیس کیمپ سے رابطہ منقطع ہوا اور ان کی ٹیم کو جب ان کی جانب سے رپورٹ موصول ہونا بند ہوگئی تو ہفتے کو وہ لاپتا قرار پائے تھے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ فضائی نگرانی کی جائے گی لیکن یہ سب موسم پر منحصر ہے، اگر پہاڑ کی حدِ نگاہ ہوئی تو طیارہ پرواز کرے گا، اور کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے تصاویر لی جائیں گی اور سینسرز کا استعمال کیا جائے گا۔

ان کوہ پیماؤں کی تلاش مہم میں ماہر مقامی کوہ پیماؤں میں شمشال سے فضل علی اور جلال، اسکردو سے امتیاز حسین اور اکبر علی، رومانیہ کے الیکس گوان، نذیر صابر، چھانگ داوا شیرپا اور موسم سرما میں کوہ پیمائی کرنے والی ایس ایس ٹی ٹیم کے دیگر اراکین شامل تھے۔

اس حوالے سے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی موسم بہتر ہو گا تینوں کوہ پیماؤں کی تلاش اور ریسکیو کا کام دوبارہ شروع کیا جائے گا اور پاک فوج کی جانب سے تمام دستیاب وسائل متحرک کر دیے گئے ہیں۔

سعودی عرب میں فلمی صنعت کے فروغ کے بارے یہ خبر بھی پڑھیں

سعودی عرب میں سینما کے فروغ اور ماڈرن فلم پروڈکشن کیلئے شاہی سرپرستی بڑی غیر متوقع تبدیلی ہے

LATEST NEWS

CHINESE NEWS

OUR DEFENCE NEWS SITE

spot_img

INDIAN NEWS