Monday, September 20, 2021

امریکہ کی افغان طالبان پر بی 52 طیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹرز سے وحشیانہ بمباری شروع

امریکہ نے اپنی بغل بچہ افغان حکومت اور بھارتی مفادات کا دفاع کرنے کیلئے افغان طالبان اور عوام کا فضا سے قتل عام شروع کر دیا ہے

امریکہ نے افغانستان سے انخلاء کے بعد تین اہم شہروں قندھار ، ہرات اور لشکر گاہ پر طالبان کی پیش قدمی کو روکنے کیلئے دنیا کے خطرناک ترین  بی 52 بمبار اور سپیکٹر گن شپ ہیلی کاپٹرز بھیج دیے ہیں۔ امریکہ نے اپنی بغل بچہ افغان حکومت اور بھارتی مفادات کا دفاع کرنے کیلئے افغان طالبان اور عوام کا قتل عام شروع کر دیا ہے۔

اس اقدام سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح افغان افواج فوجی ساز و سامان اور مدد کیلیے اب بھی امریکہ پر انحصار کر رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق امریکی بی 52 بمبار طیارے قطر کے ایک جنگی ایئربیس سے اڑ کر قندھار ، ہرات اور صوبہ ہلمند میں لشکر گاہ کے ارد گرد طالبان کے اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔

امریکہ کا یہ اقدام افغانستان میں بڑھتی ہوئی طالبان کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی روکنے کیلئے کیا جا رہا ہے۔ امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد طالبان نے ملک بھر کے علاقوں پر قبضہ جاری رکھا ہوا ہے۔ جس کے بعد بھاارت کا انٹی پاکستان دیشت گردی کا نیٹ ورک اور دیگر بھارتی مفادات شدید خطرات کا شکار ہیں۔

امریکی پینٹاگون کے مطابق طالبان کا افغانستان کے 419 ضلعوں میں سے نصف پر مکمل کنٹرول ہے۔ جیلوں سے آزاد کیے جانے والے قیدی بھی طالبان سے مل رہے ہیں۔ طالبان کی ان پیش قدمیوں کے ساتھ ہی افغان حکومت کی سہولت کاری سے چلنے والے بھارتی نیٹ ورک تباہ ہو رہے ہیں۔ اور امریکہ اپنی اتحادی افغان حکومت اور اپنے نئے حلیف بھارت کے مفادات بچانے کیلئے وحشیانہ بمباری کر رہا ہے ۔

طالبان نے اسی دن کابل میں حکومت کے چیف میڈیا آفیسر دعوٰ خان مینپال کو بھی قتل کر دیا۔ امریکی بی 52  بمبار اور گن شپ ہیلی کاپٹرز کے حملوں سے یہ حقیقت کھل رہی ہے کہ افغانستان کی سرکاری افواج طالبان سے جنگ کے قابل نہیں بلکہ صرف امریکی مدد پر انحصار کرتی ہیں

بی 52 بمبار ، بوئینگ کا تیار کردہ طیارہ ایک لانگ رینج ، سبسونک ، اسٹریٹجک بمبار ہے ، جو 32 ٹن تک بم لے جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ ان بی 52 بمباروں نے 2001 کے آخر میں طالبان کو اقتدار سے ہٹانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا ۔

  ذرائر کے مطابق امریکہ سپیکٹر گن شپ ہیلی کاپٹر اور مسلح ریپر ڈرون بھی استعمال کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں روزانہ کم از کم پانچ مشن اڑائے جا رہے ہیں۔

 افغان ایئر فورس اب بھی امریکی سپلائی اور امریکی طیاروں پر انحصار کر رہی ہے ، جو اب امریکی فوج کے انخلاء کے بعد اسپیئر پارٹس اور تربیت یافتہ ٹیکنیشنز سے محروم ہیں۔ بھارت کی انٹی پاکستان سرگرمیوں کو افغان حکومت کی ہر مدد حاصل ہے۔ جبکہ افغان طالبان اپنی سرزمین کے پاکستان یا کسی بھی مسلم ملک کیخلاف استعمال ہونے کے شدید مخالف ہیں۔

اطلاعات کے مطابق افغان طالبان نے کم از کم سات افغان پائلٹ ہلاک کر دیے ہیں۔  جبکہ دیگر افغان طالبان سے خوف زدہ ہیں یا مبینہ طور پر مسلسل مشن کے بعد تھک چکے ہیں۔

اگرچہ جو بائیڈن نے 31 اگست کو اافغانستان سے انخلاء کی آخری تاریخ مقرر کیا ہے ۔ جبکہ امریکی دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے بعد بھی افغان حکومت کی مدد کیلئے طالبان کیخلاف فضائی حملے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔


افغان صورت حال کے بارے یہ خبر بھی پڑھیں

افغان طالبان کی طوفانی پیش قدمی ، بھارت کے حامی جنرل رشید دوستم کا محل نذرِ آتش

اہم خبریں

تازہ ترین خبریں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here