Monday, August 2, 2021

امریکہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پر جمال خشوگی کے قتل کے الزام پر سی آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ شائع کرے گا

امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق پرنس محمد بن سلمان نے مبینہ طور پر جمال خشوگی کے قتل کی منظوری دی تھی۔ سی آئی اے کو ملی انفارمیشن اور تحقیقات کی بنیاد پر تیار کی گئی رپورٹ 28 فروری کو جاری کی جائے گی

امریکی صدر جو بائیڈن انتظامیہ نے سعودی ولی عہد پرنس محمد بن سلمان پر سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کے الزامات سے متعلق سی آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ شائع کرنے کا اہم فیصلہ کیا ہے ۔ یاد رہے کہ صدر جوبائیڈن نے اقتدار سنبھالتے ہی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ سابق صدر ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے کئے گئے ہتھیاروں کی فروخت کے معاہدے روک دیے تھے۔

امریکہ کے یہ اقدامات امریکہ کی عرب ورلڈ پالیسی میں ایک بہت بڑی تبدیلی کا اشارہ اور بڑے تنازعات کی شروعات کا سبب بن سکتے ہیں۔ سابق صدر ٹرمپ کے برعکس صدر بائیڈن کی سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک سے تعلقات کی پالیسی قدرے مختلف اور سخت گیر نظر آتی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی انٹلیجنس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے محمد بن سلمان نے مبینہ طور پر سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کی منظوری دی تھی۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق سی آئی اے کو ملنے والی انفارمیشن اور تحقیقات کی بنیاد پر تیار کی گئی یہ رپورٹ 28 فروری کو جاری کی جا رہی ہے۔

 چار امریکی عہدیداروں کی تیار کردہ رپورٹ میں خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ محمد بن سلمان نے خشوگی کے قتل کا حکم دیا تھا۔ یاد رہے کہ سعودی صحافی خشوگی کے واشنگٹن پوسٹ میں کالم نے ولی عہد شہزادے کی پالیسیوں کو تبدیل کردیا تھا۔

یاد رہے کہ 59 سال جمال خشوگی کو 2 اکتوبر، 2018 کو استنبول کے سعودی قونصل خانے میں سعودی ولی عہد سے نزدیکی تعلق رکھنے والے افراد نے ہلاک کردیا تھا۔ مقتول کے جسم کو اس طرح ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا تھا کہ ان کی باقیات نہیں مل سکی تھیں۔

صدر جو بائیڈن نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے یہ رپورٹ پڑھ لی ہے۔ وہ اس حوالے سے صرف شہزادہ محمد بن سلمان کے 85 سالہ والد سعودی شاہ سلمان سے تفصیلی بات کریں گے۔

صدر بائیڈن کی طرف سے یہ اہم اقدام بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ نئی امریکی انتظامیہ کا خیال ہے کہ ٹرمپ یمن کی خانہ جنگی میں سعودی عرب کے انسانی حقوق کے ریکارڈ اور سعودی مداخلت پر نرمی کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ ٹرمپ پر یہ بھی الزام لگایا گیا تھا کہ وہ عالمی فورموں کو خشوگی قتل کیس میں سعودی ولی عہد کے بارے تحقیقات سے روک رہے تھے۔


Also read this news about Saudi_ India defence relations

India and Saudi Arabia are strengthening defence ties and strategic relation


وائٹ ہاؤس ترجمان جین ساکی نے اخباری نمائیندوں کو بتایا کہ بائیڈن صرف سعودی شاہ سلمان سے بات کریں گے۔ ان کے مطابق خشوگی قتل کیس کی رپورٹ کو جلد شائع کرنے کیلئے تیار کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے تفتیش کار ، اگنس کالامارڈ نے سعودی عرب پر خشوگی کو قتل کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے مزید تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

خشوگی قتل کیس میں سعودی حکام نے اعتراف کیا تھا کہ خشوگی کی موت ان کیخلاف کارروائی میں سخت گیرغلطی سے ہوئی تھی ۔ لیکن انہوں نے قتل میں ولی عہد محمد بن سلمان کے ملوث ہونے سے انکار کیا تھا۔ یاد رہے کہ خشوگی کے اہل خانہ کی طرف سے معافی کے بعد اس قتل کے جرم میں پھانسی کی سزا پانے والے پانچ افراد کی سزائے موت کو 20 سال قید میں تبدیل کردیا گیا تھا۔

بائیڈن انتظامیہ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو اربوں ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت پر عارضی طور پر پابندی عائد کردی تھی۔ جس میں سعودی عرب کو جدید ہتھیاروں کی فروخت اور متحدہ عرب امارات کو ایف 35 لڑاکا طیاروں کی فروخت کے معاہدے شامل تھے ۔

ٹرمپ انتظامیہ کے تحت کروڑوں ارب ڈالر کے اسلحہ معاہدوں پر نظر ثانی کیلئے ان معاہدوں کو روک دیا گیا ہے۔ امریکہ کے نئے خارجہ سیکریٹری انتھونی بلنکن نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے پر غور کیا جارہا ہے کہ کیا عرب ممالک کے ساتھ یہ معاہدے امریکہ کے اسٹریٹجک مقاصد اور خارجہ پالیسی سے مطابقت رکھتے ہیں۔


متحدہ عرب امارات ، بھارت اور فرانس کے دفاعی اتحاد کے بارے یہ خبر بھی پڑھیں

متحدہ عرب امارات ، بھارت اور فرانس مشترکہ جنگی مشقیں اور فضائی تعاون کریں گے

 

LATEST NEWS

CHINESE NEWS

OUR DEFENCE NEWS SITE

spot_img

INDIAN NEWS