Friday, October 22, 2021

اقوام متحدہ کے مبصرین نے دوبئی کی شہزادی کے زندہ ہونے کے ثبوت طلب کر لیے

دوبئی کے حکمران شیخ راشد المکتوم کی بڑی بیٹی شیخہ شمسہ گذشتہ 20 برس سے اور چھوٹی بیٹی شیخہ لطیفہ فرار کی ناکام کوششوں کے بعد تین سال سے کیوں کہاں اور کس حال میں آزادی سے محروم یا قید ہیں؟

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے مبصرین نے دوبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم سے ان کی بیٹی شہزادی لطیفہ مکتوم کے زندہ سلامت ہونے کے مصدقہ ثبوت طلب کر لئے ہیں ۔ اس سال فروری میں جاری ہونے والی ویڈیوز میں شیخہ لطیفہ نے انکشاف کیا تھا کہ ان کے والد شیخ راشد المکتوم  نے 2018 میں ان کی فرار کی کوشش کے بعد سے انہیں دوبئی میں جبری قید کر رکھا ہے۔ خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی اس ویڈیوز میں شیخہ لطیفہ نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ انہیں قتل کر دیا جائے گا۔

بی بی سی کے مطابق جیینیوا سے جاری کردہ بیان میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے مبصرین نے شیخہ لطیفہ کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ شیخہ لطیفہ نے 2 مرتبہ دوبئی سے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن وہ دونوں مرتبہ ناکام ہوئیں ۔ انہیں 2002 اور 2018 میں پکڑ کر دوبئی واپس لایا گیا تھا۔ جہاں پہلی کوشش کے بعد والد کی ہدایات پر 3 سال تک قید میں رکھا گیا تھا۔ جبکہ مارچ 2018 میں ان کی دوسری قید عالمی شہ سرخیوں کا حصہ بنی تھی۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے مبصرین نے کہا ہے کہ شیخہ لطیفہ کو جن جابرانہ حالات میں قید رکھا گیا ہے، ان کی آزادانہ تصدیق کروائی جائے اور انہیں فوری طورپر رہا کیا جائے۔

انسانی حقوق کے ماہرین نے کہا کہ دوبئی کے حکام کا کہنا ہے کہ شہزادی لطیفہ کو گھر میں رکھا گیا ہے۔  لیکن اقوام متحدہ کے مطابق  ان کے زندہ ہونے کے مصدقہ ثبوت کے بغیر یہ بیانیہ ناکافی ہے۔ ہیومن رائٹس کے مطابق اس مسلسل حراست سے شہزادی لطیفہ پر جسمانی اور نفسیاتی طور پر نقصان دہ اثرات مرتب ہوسکتے ہیں جو ظالمانہ، غیر انسانی یا مایوس کن سلوک کے زمرے میں آسکتے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے دوبئی کی شہزادی لطیفہ کو جبری قید میں رکھنے کے بارے معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

قبل ازیں مشیل باشیلے کی سربراہی میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے شہزادی لطیفہ سے متعلق بڑھتی ہوئی عالمی تشویش کے تناظر میں اماراتی حکومت سے ان کے زندہ ہونے کے ثبوت مانگے تھے۔ جس کے جواب میں دوبئی حکام نے 19 فروری کو کہا تھا کہ شیخہ لطیفہ کا گھر پر خیال رکھا جارہا ہے۔ تاہم اخباری ایجنسیوں نے اماراتی حکام سے رابطہ کیا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

اپریل کے شروع میں حقوق انسانی کے دفتر نے کہا تھا کہ انہوں نے شیخہ لطیفہ کے زندہ ہونے سے متعلق دوبئی حکام سے جو ثبوت مانگے تھے، وہ ابھی تک موصول نہیں ہوئے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ہائی کورٹ آف انگلینڈ  کے فیملی ڈویژن کے چیف جسٹس اینڈریو مکارلین نے دوبئی کے حکمران شیخ محمد کو اپنی بڑی بیٹی شیخہ شمسہ کو برطانوی شہر کیمبرج سے اگست 2000 میں اغوا کے حکم اور منصوبہ بندی میں ملوث قرار دیا تھا۔  20 سال قبل اغوا کے وقت شیخہ شمسہ 19 برس کی تھیں۔ اس کے بعد شیخہ شمسہ کو دوبئی واپس لایا گیا۔ جہاں گذشتہ بیس سالوں سے انہیں جبری قید میں رکھا گیا ہے۔

لندن کی عدالت نے کہا تھا کہ شیخ راشد  نے دونوں نوجوان بیٹیوں کو جبری طور پر آزادی سے محروم کر رکھا ہے۔ عدالت میں مذکورہ معاملہ زیر غور آنے کے بعد شیخہ لطیفہ کے دوست پُرامید تھے کہ شاید عدالت کے فیصلے کے بعد کچھ مثبت نتیجہ نکلے گا ۔ لیکن ایسا نہیں ہوا جس کے بعد انہوں نے شہزادی کے پیغامات پریس اینڈ میڈیا کو جاری کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

یاد رہے کہ اردن کے حکمران شاہ عبدللہ دوئم کی بہن اور دوبئی کے حکمران شیخ راشد کی 45 سالہ بیوی شہزادی حیا بنت الحسین اپریل 2019 میں اپنے شوہر سے خوفزدہ ہو کر دوبئی سے برطانیہ فرار ہوگئی تھیں۔ جہاں انہوں نے اپنے 2 بچوں کی واپسی کیلیے عدالت میں کیس دائر کیا تھا۔


 سعودی عرب اور بھارت کے دفاعی تعلقات کے بارے یہ خبر بھی پڑھیں

India and Saudi Arabia are strengthening defence ties and strategic relation

اہم خبریں

تازہ ترین خبریں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here