Sunday, June 20, 2021

صدر جو بائیڈن نے خاتون صحافی کو دھمکی دینے پر وائٹ ہاؤس کے وائس سیکریٹری کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا

صدر بائیڈن نے حلف اٹھانے کے بعد اپنے وائٹ ہاؤس کے سٹاف کو دوٹوک الفاظ میں یہ تنبیہ کی تھی کہ اگر ان کے کسی سٹاف نے کسی سے بداخلاقی کا رویہ اپنایا تو وہ اسے ملازمت سے فوری برطرف کردیں گے

امریکہ میں قانون و اخلاقیات کی خلاف ورزی اور سرکاری حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھانا سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے۔ امریکی ایوان اقتدار کا کوئی سینیئر اہلکار بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ اس حوالے سے پرائیویٹ لائف کے بارے سوال پوچھنے پر ایک خاتون صحافی کو سنگین نتائج کی دھمکی دینے والے وائٹ ہاؤس کے نائب ترجمان کو استعفیٰ دینا پڑا ، جسے صدر جو بائیڈن نے منظور کر لیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین پساکی کے مطابق وائٹ ہاؤس کے نائب ترجمان ٹی جے ڈکلو کو ایک ہفتے کیلیے نوکری سے معطل کیا گیا تھا۔ لیکن اب صدر بائیڈن نے ان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔

 وائٹ ہاؤس کے وائس پریس سیکریٹری ڈکلو سے ان کے ایک سیاسی رپورٹر الیکسی میک کیمنڈ سے تعلقات کے بارے سوالات کئے گئے تھے ۔ جس پر انہوں نے برہم ہو کر اس خاتون صحافی کو فون پر یہ دھمکی دی کہ وہ اس کو تباہ و برباد کر دیں گے۔

مذکورہ خاتون رپورٹر ایک میگزین وینیٹی فیئر کی نامہ نگار ہیں۔ ان کے ادارے نے بھی وائٹ ہاؤس کے نائب ترجمان کے غیر اخلاقی رویے کی تصدیق میں کہا ہے کہ  ٹی جے ڈکلو نے توہین آمیز رویہ اختیار کیا اور صحافی خاتون کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں۔


عرب ممالک میں خواتین کے آزادی اظہار کے بارے یہ خبر بھی پڑھیں

۔

وائٹ ہاؤس کی سیکریٹری جین پساکی نے کہا کہ وائٹ ہاؤس نے ہفتے کی شام ڈکلو سے بات کی اور ان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔  انہوں نے کہا کہ ہم سب کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنے کے بارے صدر بائیڈن کے متعین کردہ اصولوں کے مطابق عمل کیلیے کوشاں ہیں۔

وائٹ ہاؤس ترجمان پساکی نے کہا کہ یہ خبر منظر عام پر آنے کے بعد ڈکلو نے خاتون صحافی سے معافی مانگ لی تھی۔ انہوں نے اپنے رویے کیلئے ٹوئٹر پر بھی معافی مانگی تھی۔ ڈکلو نے معافی مانگتے  ہوئے کہا تھا کہ میری زبان عدم احترام، قابل نفرت اور ناقابل قبول تھی۔ لہذا  میں انتہائی شرمندہ ہوں اور میں نے صدر بائیڈن اور اپنے وائٹ ہاؤس کے ساتھیوں کو مایوس کیا ہے۔

یاد رہے کہ صدر بائیڈن نے حلف اٹھانے کے بعد وائٹ ہاؤس کے عملے کو خبردار کیا تھا کہ وہ دوسروں سے خراب رویہ نہ رکھیں۔  صدر بائیڈن نے وائٹ ہاؤس کے سٹاف کو دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ میں یہ مذاق نہیں کررہا ہوں۔  اگر آپ میرے ساتھ کام کر رہے ہیں اور مجھے پتہ چلا کہ آپ نے کسی شخص کے ساتھ  بداخلاقی کا مظاہرہ کیا  ہے تو میں آپ کو اسی وقت نوکری سے برطرف کردوں گا۔

 اور صدر جو بائیڈن نے اپنے وعدے کے مطابق ایک خاتون صحافی سے غیر اخلاقی اور دھمکی آمیز سلوک کرنے والے وائٹ ہاؤس کے ایک سینئراہلکار کو معافی مانگنے کے باوجود استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا ۔ یہ قابل تقلید واقعہ دنیا بھر کے حکمرانوں اور ایوانانِ اقتدار کیلئے ایک روشن مثال ہے۔

۔


صدر بائیڈن کی نئی پالیسیوں کے بارے یہ خبر بھی پڑھیں

جو بائیڈن نے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو ایف ۔ 35 اور اسلحہ کی فروخت روک دی

LATEST NEWS

CHINESE NEWS

OUR DEFENCE NEWS SITE

spot_img

INDIAN NEWS